Wednesday, February 4, 2026
Google search engine

احمد الشرع کی عبوری حکومت شام کا مستقبل

دمشق کی سرد فضا میں محض موسم کی تبدیلی کا پتہ نہیں دے رہی بلکہ یہ اس نئے سیاسی جغرافیے کی نوید ہے جو شام کی خاک سے ایک دہائی کے خونی رقص کے بعد برآمد ہوا ہے۔ سانا کی حالیہ رپورٹ، جو پیر 5 جنوری 2026 کو منظر عام پر آئی محض ایک اخباری خبر نہیں بلکہ اس نوحے کا عنوان ہے جو شام کی خود مختاری پر لکھا جارہا ہے۔ کہیں تو یہ وہ لمحہ ہے جہاں تاریخ خود کو دہراتی نہیں بلکہ نئے زخموں کے ساتھ جنم لیتی ہے۔ جب ہم شام کے افق پر ابھرتے ہوئے نئے سورج کو دیکھتے ہیں تو اس کی تمازت میں ان طاقتوں کا عکس نمایاں ہے جنہوں نے احمد الشرع کی عبوری حکومت کو اپنی انگلیوں کے اشاروں پر نچانے کا فن سیکھ لیا ہے شام اب انقلابی ہیجان کے عہد سے نکل کر ” جارتی استحکام کے اس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں اقتدار کی بساط پر مہرے وہی پرانے ہیں مگر چالیں نئی ہیں۔ جیو پولیٹیکل تناظر میں دیکھا جائے تو 5 جنوری 2026 کی رپورٹ شام کے حوالے سے ایک نئے عالمی نظم کا پیش خیمہ ہے۔ دسمبر 2024 میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والا خلا اب پر ہورہا ہے لیکن اس کی قیمت کا روباری استحکام کی صورت میں ادا کی جارہی ہے۔ ایران اور روس کا وہ محور، جو بھی دمشق کے تخت کا محافظ تھا، اب تاریخ کے کوڑے دان کی نذر ہو چکا ہے۔ اس کی جگہ اب امریکہ، ترکی اور خلیجی ریاستوں کی ایک نئی ٹرائیکا نے لے لی ہے۔


تر کی اس وقت شام کے نئے منظر نامے میں ایک سیاسی سر پرست اور عسکری نگر ان کے طور پر ابھرا ہے۔ صدر اردوگان کی پالیسیوں نے شام کو محض ایک پڑوسی ملک نہیں بلکہ اپنی سٹریٹجگ گہرائی کا ایک ایسا حصہ بنادیا ہے جہاں نو ثانی خوابوں کی تعبیر ڈھونڈی جارہی ہے۔ ترکی اس پوری بساط کا سب سے بڑا فاتح بن کر ابھرا ہے۔ انقرہ نے شام کو اپنی نوعثمانی پالیسی کے تحت ایک سٹریٹجک گہرائی کے طور پر استعمال کیا ہے۔ دسمبر 2024 کے سقوط کے بعد ، ترکی نے ثابت کر دیا کہ وہ شام کی جغرافیائی اور سیاسی بقا کا ضامن ہے۔ ترکی کا اثر ورسوخ تین ستونوں پر کھڑا ہے۔

اول عسکری انضمام، شامی نیشنل آرمی کی تشکیل نو

اول عسکری انضمام، شامی نیشنل آرمی کی تشکیل نو اور باغی دھڑوں کو با قاعدہ ریاستی مشینری کا حصہ بنانا ترکی کا سب سے بڑا کارڈ ہے۔ دوم کرد آپریشنز ترکی نے دمشق پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ شمال مشرقی شام میں کرد خود مختاری کو کچلنے کے لیے انقرہ کے ایجنڈے پر عمل کرے۔ سوم تعمیر نو کے معاہدے، حلب اور دمشق کی تعمیر نو کے بڑے ٹھیکے ترک کمپنیوں کو دے کر ایک طویل المدتی معاشی انحصار پیدا کر دیا گیا ہے۔ ترکی کے لیے شام اب ایک پڑوسی ملک نہیں، بلکہ اس کی اپنی سرحدوں کا ایک توسیعی حصہ ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن نے اپنی پرانی حکمت عملی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب “مشروط شراکت داری کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی واپسی نے امریکی پالیسی کو نظریاتی مداخلت سے ہٹا کر مشروط شمولیت پر استوار کر دیا ہے۔ واشنگٹن اب شام کی معاشی شہ رگ پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ مئی 2025 میں قیصرا ایکٹ کی پابندیوں میں نرمی وہ آکسیجن تھی جس نے انتقالی حکومت کو سانس لینے کا موقع دیا۔ لیکن یہ ریلیف مستقل نہیں ہے۔


واشنگٹن کے پاس شام کی معاشی بقا اور بین الاقوامی جواز کی کنجیاں ہیں۔ امریکی اثر ورسوخ کے تین اہم پہلو ہیں ۔ پہلا پابندیوں سے ریلیف، واشنگٹن کسی بھی وقت ان پابندیوں کو دوبارہ نافذ کر سکتا ہے اگر دمشق نے ایران کے ساتھ دوبارہ روابط بڑھانے کی کوشش کی ۔ دوسرا اسرائیلی چینل ، جیسا کہ حالیہ رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے، امریکہ ہی وہ واحد طاقت ہے جو اسرائیلی واپسی کے لیے ثالثی کر سکتی ہے۔ دمشق کو جولان کے بفرزون میں کھوئے ہوئے علاقے واپس لینے کے لیے امریکہ کی ضرورت ہے۔ تیسر ا وسائل پر کنٹرول کردوں کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے امریکہ اب بھی مشرقی شام کے تیل اور گندم کے کھیتوں پر اثر انداز ہوتا ہے، جس سے دمشق کو مذاکرات پر مجبور کیا جاتا ہے۔

واشنگٹن کے پاس شام کی معاشی بقا

واشنگٹن کی سیاست ہمیشہ سے سودے بازی رہی ہے۔ ان کے لیے انسانی حقوق اور جمہوریت محض کتابی باتیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شام کے بچوں کی روٹی اور ملک کی بجلی کا سونچ آج بھی وائٹ ہاؤس کے پاس ہے۔ اگر احمد الشرع نے تہران کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی دیکھا، تو یہ رعایتیں ایک لمحے میں چھین لی جائیں گی۔ معاشی محاذ پر قطر اور سعودی عرب نے اپنی چیک بک ڈپلومیسی کے ذریعے اثر و رسوخ کی ایک نئی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ جیسے ہی عسکری مرحلہ ختم ہوا، اقتصادی طاقت اقتدار کا اصل سکہ بن گئی۔ قطر، جو ایک دہائی سے اپوزیشن کی حمایت کر رہا تھا، اب نئی حکومت میں شامل اسلام پسند عناصر کا سب سے بڑا مالیاتی سرپرست بن کر ابھرا ہے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے ایک عملیت پسندانہ نقط نظر اپنایا ہے تا کہ شام کو دوبارہ عرب دنیا کے قریب لایا جا سکے اور اسے ترکی کا مکل سیٹلائٹ بننے سے روکا جا سکے۔ خلیجی ممالک کی یہ مالی امداد دمشق کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔


اس کے ساتھ ہی اٹلی اور یورپی یونین نے ایک ٹیکنو کریٹک برج کے طور پر حیران کن انٹری دی ہے۔ روم اب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور تکنیکی مہارت کو استعمال کر کے تارکین وطن کے مسئلے کو جڑ سے حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یورپی فنڈنگ کو انسانی حقوق کی اصلاحات اور پناہ گزینوں کی واپسی سے مشروط کر دیا گیا ہے، جو کہ یورپی حکومتوں کی داخلی ترجیح ہے۔ ریال اور ڈالر کی اس بارش میں شام کی روح کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ عمیر نونہیں، بلکہ اثر ورسوخ کی عالمی منڈی ہے۔
دوسری طرف وہ طاقتیں ہیں جن کا سورج شام میں غروب ہورہا ہے۔
روس ، جو کبھی شام کا کنگ میکر تھا، اب محض ایک کرایہ دار بن کر رہ گیا ہے۔ اسد حکومت کے خاتمے نے ماسکو سے اس کی سیاسی اجارہ داری چھین لی ہے۔ اگر چی میم ایئر میں اب بھی اس کے پاس ہے، لیکن اب اسے بحیرہ روم میں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے ترکی اور امریکہ سے مذاکرات کرنے پڑتے ہیں۔ روس اب صرف ایک توازن برقرار رکھنے والے مہرے کے طور پر موجود ہے تا کہ دمشق مکمل طور پر مغرب پر انحصار نہ کرے۔ ایران اس پوری تبدیلی کا سب سے بڑا ہارا ہوا کھلاڑی ہے۔

تہران نئے نظام سے باقاعدہ طور پر باہر

تہران کو نئے نظام سے با قاعدہ طور پر باہر کر دیا گیا ہے۔ اب اس کی طاقت ریاست کے ایوانوں میں نہیں بلکہ ان خفیہ نیٹ ورکس اور سلیپر سیلز میں ہے جو کسی بھی وقت امن کے عمل کو سبو تا ثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کی کوشش ہوگی کہ وہ شام، اسرائیل اور عرب دنیا کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت میں رکاوٹیں ڈالے۔ تہران کے لیے یہ صورتحال کسی المیے سے کم نہیں کیونکہ اس نے شام میں جو سرمایہ کاری کی تھی وہ اب خاک میں مل چکی ہے۔ تاریخ دوہرائی گی کہ ایران شام کو رنگ آف فائر پالیسی کی حکمت عملی کے تحت کب اپنا ہاتھ بھاری رکھتا ہے تا ہم اس وقت ایران خود معاشی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔


جنوری 2026 کا شام عالمی قوتوں کی بساط پر ایک ایسا تختہ ہے جہاں ہر مہرہ کسی بیرونی ہاتھ کی جنبش کا منتظر ہے۔ ترکی عسکری اور انتظامی کنٹرول چاہتا ہے، امریکہ سفارتی اور معاشی برتری کا خواہاں ہے ، جبکہ اسرائیل اپنی سرحدوں کی ناقابل تسخیر سیکیورٹی پر بضد ہے۔ قطر اور سعودی عرب مالیاتی بالا دستی کے لیے کوشاں ہیں ۔ اس پوری کشمکش میں شام کی اپنی آواز کہیں دب کر رہ گئی ہے۔ شام اب انقلابی افراتفری سے نکل کر ایک ایسے استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے جو کسی کے مفادات کا محتاج ہے۔ کیا احمد الشرع کی قیادت میں شام واقعی ایک آزا در یاست کے طور پر ابھر سکے گا یا یہ صرف آقاؤں کی ایک نئی ترتیب ہے؟ شام کا مستقبل اب دمشق کی گلیوں میں نہیں بلکہ ان بین الاقوامی دارالحکومتوں میں لکھا جارہا ہے جہاں شام کی مٹی کو سونے کے بھاؤ تو لا جا رہا ہے۔ یہ وہ نیا شام ہے جہاں امن تو ہے مگر اس کی قیمت خود مختاری کی نیلامی ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine