اسلام آباد: (تصور نیوز) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ اپنا صوبہ چھوڑ کر ادھر اُدھر پھر رہے، انہیں اپنے صوبے پر توجہ دینی چاہیے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا الله تارڑا میڈا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد چودھری نے ہماری پارٹی کے مختلف لوگوں سے رابطہ کیا ہے، بر اعظم کو خط بھی لکھا، تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ ان کی اس پوری موومنٹ یا نظریے کا مقصد کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیا یہ پی ٹی آئی کی جانب سے ہے؟ کیا یہ بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی جانب سے ہے؟ یا کیا یہ ادور آل نسینس کے لیے کر رہے ہیں؟ یا کیا یہ ان کا اپنا ایک انیشی ایٹو ہے؟ ۔ اب اس پر بہت ساری چیزیں واضح نہیں ہیں ۔ جب یہ سب چیزیں واضح ہوں گی تو آگے اس پر سوچا جائے گا کہ اس پر کیا کرنا ہے ۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھاکہ فواد چودھری صاحب کی یہ کاوش بہت اچھی ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح کے لوگ ہونے چاہئیں جو اس نوعیت کی بات چیت کریں، مگر انہیں اپنی پارٹی کی کتنی سپورٹ حاصل ہے؟ ، ان کا مینڈیٹ کیا ہے۔ یہ بھی اب تک ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سہیل آفریدی کا جو کراچی میں استقبال ہوا، وہ خوش آئند ہے۔ میں اس کو بالکل مثبت طریقے سے لیتا ہوں ۔ سعید غنی صاحب نے ان کو اجرک پہنائی اور ان کا استقبال کیا ، جو کہ ایک بہت اچھی بات ہے۔ مگر پنجاب آکر ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے حوالے سے باتیں کی گئیں ۔ جس طریقے سے یہ لوگ ایک ایگریسی انٹینٹ کے ساتھ آئے، تو پھر ہم ان کے ساتھ کیا ہی کرتے؟۔ کیونکہ پنجاب میں یہ دھمکیاں لگا کر ہی آئے تھے، ایک جارحانہ موڈ میں آئے تھے۔
پنجاب کا کلچر ایسا ہے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی قتل بھی کر دے اور مقتول پارٹی کی بہن، بیٹی چل کر آجائے تو ہم بہن، بیٹیوں کے سر پر ہر چیز معاف کر دیتے ہیں، دشمنیاں معاف ہو جاتی ہیں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو آ کر بہن، بیٹیوں کو طعنے دیتے ہیں اور غلیظ گفتگو کرتے ہیں۔ یہ تو پنجاب آئے تھے پنجاب کی عزت پر وار کرنے کے لئے، جس پر ان کو بھر پور جواب ملا ہے۔ جس انٹینٹ سے آئیں گے، اسی انٹینٹ سے ان کو جواب دیا جائے گا۔
یہ جو وزیر اعلیٰ اپنا صوبہ چھوڑ کر ادھر اُدھر پھر رہے ہیں، تو دوسرے صوبوں میں کیا لینے جارہے ہیں اور کیا لے کر جا رہے ہیں؟، کیا یہ بتارہے ہیں کہ انہوں نے اپنے صوبے میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں بہت اصلاحات کی ہیں؟، یا خواتین کی ایجو کیشن میں کوئی انقلاب لے آئے ہیں۔
بد قسمتی سے اس ملک میں جو شعبدہ بازی کی سیاست شروع ہو گئی ہے، بڑے بڑے شعر پڑھو، نعرے لگاؤ ، وکٹری کے نشان بناؤ، ڈرامے کرو، لانکس لو، ریلز بناؤ اور گھر چلے جاؤ۔ انہیں پشاور پر ، ساؤتھ کے اضلاع پر ، اور پورے خیبر پختونخوا پر توجہ دینی چاہیے۔