بنگلہ دیش کی سیاست میں اب جب کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے اکثریت حاصل کرلی ہے اور حکومت بنانے کی پوزیشن میں آچکی ہے۔ تو پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ اس کے تعلقات کی نوعیت جنوبی ایشیا کی مجموعی سیاست پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اس سوال کا جائزہ لیتے ہوئے ماضی کی پالیسیوں ، جماعت کی نظریاتی سمت اور موجودہ علاقائی طاقتوں کے توازن کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
بی این پی کی بنیاد 1978 میں سابق صدر ضیاء الرحمن نے رکھی۔ جماعت کے فکری ڈھانچے میں بنگلہ دیشی قوم پرستی، اسلامی شناخت اور نسبتا خود مختار خارجہ پالیسی کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ اس سوچ کا ایک پہلو یہ بھی رہا ہے کہ بنگلہ دیش کسی ایک علاقائی طاقت کے زیر اثر نہ آئے بلکہ مختلف ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرے۔ اسی تناظر میں عوامی لیگ سے اس کا بنیادی فرق واضح ہوتا ہے، کیونکہ عوامی لیگ کے ادوار میں بھارت کے ساتھ غیر معمولی قربت دیکھنے میں آئی۔
ماضی میں جب خالدہ ضیاء کی قیادت میں بی این پی حکومت میں آئی تو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نسبتاً بہتری دیکھی گئی۔ 1991 سے 1996 اور پھر 2001 سے 2006 کے دوار میں سفارتی سطح پر روابط میں اضافہ ہوا، تجارتی امکانات پر بات چیت ہوئی اور دونوں ممالک نے سارک پلیٹ فارم پر بھی تعاون جاری رکھا۔ 1971 کے واقعات ایک حساس معاملہ رہے لیکن بی این پی نے اسے مستقل سفارتی محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کیا۔ اس کے برعکس عوامی لیگ کے دور میں جنگی جرائم کے مقدمات اور بیانات نے اسلام آباداور ڈھاکا کے تعلقات میں تناؤ پیدا کیا۔
اب جبکہ بی این پی دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلقات میں تدریجی گرمجوشی متوقع ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب غیر معمولی اتحاد ہیں بلکہ عملی مفادات کی بنیاد پر تعاون ہوگا۔ تجارت کے شعبے میں امکانات موجود ہیں ۔ پاکستان سے ٹیکسٹائل خام مال اور دیگر مصنوعات کی برآمد اور بنگلہ دیش سے تیار ملبوسات کی درآمد میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ دفاعی شعبے میں تربیتی تبادلے اور محدود عسکری تعاون بھی جاری رہ سکتا ہے، تاہم اسے نمایاں سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے گا تا کہ علاقائی تو ازن متاثر نہ ہو۔ بھارت کے ساتھ بی این پی کے تعلقات نسبتا پیچیدہ رہے ہیں۔ تاریخی طور پر بی این پی نے نئی دہلی کے اثر و رسوخ کو محدود رکھنے کی کوشش کی ہے۔ 2001 سے 2006 کے دور میں بھارت نے بنگلہ دیش میں بعض عسکریت پسند گروہوں کی موجودگی پر تحفظات ظاہر کیے تھے، جبکہ ڈھا کانے پانی کی تقسیم، سرحدی جھڑپوں اور تجارتی عدم توازن جیسے معاملات اٹھائے۔ اس کے باوجود بی این پی نے مکمل محاذ آرائی کی پالیسی اختیار نہیں کی بلکہ سفارتی سطح پر روابط برقرار رکھے۔
اگر بی این پی آئندہ حکومت بناتی ہے تو بھارت کے ساتھ اس کی پالیسی مکنہ طور پر محتاط توازن پر مبنی ہوگی۔ وہ نہ تو عوامی لیگ کی طرح غیر مشروط قربت اختیار کرے گی اور نہ ہی تعلقات کو کشیدگی کی طرف لے جائے گی۔ بھارت بنگلہ دیش کا بڑا تجارتی شراکت دار اور جغرافیائی طور پر ناگزیر ہمسایہ ہے۔ توانائی سرحدی نظم ونسق، پانی کی تقسیم اور ٹرانزٹ کے معاملات میں تعاون جاری رکھنا بنگلہ دیش کی معاشی ضرورت بھی ہے۔ اس لیے بی این پی کو عملی تقاضوں کے تحت نئی دہلی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ برقرار رکھنا ہوگا۔ البتہ خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں فرق یہ ہوسکتا ہے کہ بی این پی چین کے ساتھ تعلقات کو مزید وسعت دے اور اس کے ذریعے بھارت کے ساتھ تعلقات میں توازن پیدا کرے۔ چین بنگلہ دیش کا بڑا سرمایہ کار اور دفاعی شراکت دار ہے، جبکہ پاکستان بھی چین کا قریبی اتحادی ہے۔ اس تناظر میں بی این پی ممکنہ طور پر بیجنگ، اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان ایک متوازن حکمت عملی اپنانے کی کوشش کرے گی تا کہ کسی ایک فریق پر انحصار کم رہے۔
داخلی سیاست بھی اس پالیسی پر اثر انداز ہوگی۔ بنگلہ دیش میں ایک طبقہ بھارت کے ساتھ قریبی تعلقات کو معاشی استحکام کے لیے ضروری سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ قومی خود مختاری اور سیاسی توازن کو ترجیح دیتا ہے۔ بی این پی کو اقتدار میں آکر معاشی چیلنجز ، زرمبادلہ کے مسائل اور سیاسی استحکام جیسے امور کا سامنا ہو گا، اس لیے خارجہ پالیسی میں بڑی اور فوری تبدیلی کا امکان کم ہے۔ زیادہ امکان یہ ہے کہ وہ تدریجی انداز میں پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کرے اور بھارت کے ساتھ روابط کو برابری اور باہمی مفاد کی بنیاد پر استوار کرنے کی کوشش کرے۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو بی این پی کی مکنہ حکومت جنوبی ایشیا میں ایک متوازن خارجہ پالیسی کی طرف جا سکتی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں نرمی اور عملی تعاون کی گنجائش ہوگی ، جبکہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں نہ تو غیر معمولی قربت ہوگی اور نہ ہی کھلی کشیدگی۔ اصل ترجیح معاشی مفادات ، علاقائی استحکام اور داخلی سیاسی تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوگی ۔ یہی حکمت عملی بنگلہ دیش کو خطے کی پیچیدہ سیاست میں نسبتا بہتر پوزیشن دے سکتی ہے۔