غزہ ( تصور نیوز) اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں فوجی آپریشن شروع کر دیا۔
صیہونی حکومت کے مطابق اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسی شاباک کے اہلکار شریک ہیں اور یہ کئی روز تک جاری رہے گا ۔ آپریشن کا مقصد علاقے میں مزاحمت کاروں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا ہے۔
صیہونی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ الخلیل شہر کے علاقے جبل جو ہر میں ہتھیاروں کو ختم کرنے کیلئے وسیع آپریشن شروع کر دیا گیا ہے ۔ الخلیل کے علاقے الشیوخ اور جنین شہر کے قصبے کفررادی میں 70 فلسطینیوں کو گرفتار کر کے پوچھ گچھ کیلئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔
دریں اثنا مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں نے فلسطینیوں کے گھروں پر دھاوا بول دیا اور آگ لگا دی۔ شدت پسند یہودیوں نے 8 گھروں اور 2 گاڑیوں کو نذر آتش کیا ، اس حملے میں 4 افراد زخمی ہوئے ۔
حملہ آوروں نے آگ لگانے کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر جاری کیں ، اسرائیلی میڈیا نے بھی یہ ویڈیوز نشر کیں ۔ واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے بھی یہودی قوم پرست حملوں کو تسلیم کیا ہے اور خود فوج کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں یہودی قوم پرستانہ جرائم اور آبادکاروں کے پر تشدد حملوں کے 750 سے زائد واقعات ریکارڈ ہوئے ہیں۔
اسرائیل کی شدت پسند حکومت فلسطینیوں پر حملوں کو پسند نظر انداز کرتی ہے اور یہودی شدت پسندوں کے خلاف قانونی کارروائی شاذ و نادر ہی ہوتی ہے۔
اسرائیل کا مغربی کنارے میں فوجی آپریشن‘ فلسطینیوں کے گھر‘ گاڑیاں نذر آتش
مقالات ذات صلة


