اسلام آباد (تصور نیوز ) سینیٹ نے پاکستان پینل کوڈ میں ترمیم کا بل منظور کر لیا۔ ترمیم میں تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ 297 الف شامل کی گئی اور یہ بل جاود، جادوٹونا کی روک تھام سے متعلق ہے۔
بل کے مطابق جو شخص جادو ٹونا یا اس کی تشہیر کرے اسے 6 ماہ سے 7 سال تک قید ہو گی اور جرم کے مرتکب شخص کو 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔ اس کے علاوہ سینیٹ نے وفاقی نصاب، نصابی کتب سے متعلق بل بھی منظور کر لیا۔
یہ بل سینیٹر عینی مری نے پیش کیا۔ علاوہ ازیں غیرت کے نام پر قتل پر سزائے موت دی جائے گی۔ سینیٹ میں بل پیش کر دیا گیا۔ غیرت کے نام پر قتل کا مقدمہ ورثاء کی جانب سے قابل معافی نہیں ہوگا، ریاست کی طرف سے مقدمہ چلایا جائے گا سزائے موت دی جائے گی۔ چیئر مین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کر دیا، تعزیرات پاکستان، فوجداری قوانین اور قتل عمد سے متعلق قانون میں ترامیم کی تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
مجوزہ بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل کے دفاع میں اکسانے، کنٹرول کھونے یا اخلاقی غصے کو قبول نہیں کیا جائے گا، جو قتل کی ہدایت کرے، مدد کرے، ابھارے یا منظوری دے اسے بھی عمر قید کی سزا ہوگی۔ سینیٹ میں پیش کیے۔ گئے مجوزہ بل میں جرگوں کے ذریعے قتل کے لیے اکسانے کو بھی جرم قرار دیا گیا، جبکہ جان بوجھ کر جرم کو نہ روکنے، رپورٹ نہ کرنے ، یا تفتیش میں نا اہلی پر سرکاری ملازم کے لیے 5 سال تک قید اور جرمانہ کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
بل بحث کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ مسلم فیملی قانون میں ترمیم کا بل ایوان میں پیش کر دیا گیا۔ بل سینیٹر سرمد علی نے پیش کیا، جبکہ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے فیڈرل کمیشن برائے پاپولیشن اینڈ ری پروڈکٹو کا بل پیش کیا۔ سینیٹر زرقا سہروردی نے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کا بل پیش کیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔
ڈاکٹر افنان کا ور چوکل اثاثہ جات کا بل پیش کیا گیا، جو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹر سرمد علی کا اسلام آباد میٹروبس سروس بل پیش کیا گیا، سینیٹ نے انسداد اسمگلنگ تارکین وطن ترمیمی بل منظور کر لیا، بل سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے منظوری کیلئے پیش کیا۔


