Wednesday, February 4, 2026
Google search engine

شاہ محمود کی بات سنی جائے تو PTI سے مذاکرات ممکن: اختیار ولی

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم کے معاون خصوصی اور ن لیگ کے رہنما اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ حکومت نے اگر مذاکرات کیے تو تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں شاہ محمود قریشی و دیگر کے ساتھ ہوں گے۔
کوارڈینیٹر وزیر اعظم اختیار ولی خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی سمیت دوسرے لوگوں کی پارٹی میں بات سنی جائے گی تو ہی ذاکرات شروع ہو جائیں گے، مذاکرات اگر ہوئے تو پی ٹی آئی سافٹ اور سینئر رہنماؤں کے ساتھ ہی ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے مخالف گروپ نے مزاحمت اور سٹریٹ
موومنٹ کا اعلان کر دیا جبکہ بیرسٹر گو ہر پی ٹی آئی کے صرف برائے نام ہی چیئر مین ہیں۔
اختیار ولی نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے ، مذاکرات کے معاملے پر پی ٹی آئی پھنس چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اسٹریٹ موومنٹ دراصل سٹریٹ فوڈ موومنٹ ہے، پی ٹی آئی
والے مزاحمت کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ ۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت سے بانی کی رہائی تو نا ممکن باتوں میں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی کسی بھی وقت محمود اچکزئی کو فارغ کر دیں گے۔
8 فروری کے احتجاج سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو کچھ نہیں ہوگا، کے پی میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں ہی اس دن کچھ ہو سکتا ہے، یہ کالجز اور دیگر
ادارے اس دن بند کروادیں گے، جس سے وہاں کی عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ جس صوبے میں ان کی حکومت ہے وہاں ہی یہ کچھ کر سکتے ہیں، ان کو کرنے دیں جو کر رہےہیں یہ مزیدایکسپوز ہوں گے۔ اختیار ولی خان نے پی ٹی آئی اور کے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں گورنس نام کی کوئی چیز نہیں ، عوام کا پیسہ تحریک انصاف والے ریاست کینی کیخلاف استعمال کرتے ہیں ، ہم نے کہا کہ آئیے احتجاج کر کے دیکھ لیں ، 126 دن کا دھرنا فنڈ ڈ تھا، اس وقت سب ملے ہوئے تھے، ہم نے 126 دن تک خود کو برقرار رکھا، اب تو ان تلوں میں کوئی تیل نہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine