لاہور (سٹی رپورٹر ) پنجاب حکومت نے بسنت کو بھر پور انداز میں منانے کے لیے پارکس میں بھی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا۔
صوبائی حکومت کے مطابق چھتوں کے ساتھ پارکس اور کھلے مقامات پر بھی پتنگ بازی ہوگی ، لاہور کے پارکس بھی بسنت کی رنگینیوں کا حصہ بنیں گے۔ ڈی جی پنجاب باری ٹیچر اتھارٹی راجہ منصور کا کہنا تھا کہ بسنت صرف چھتوں تک محدود نہیں، پارکس میں بھی جشن کی اجازت ہے، پارکس میں بسنت منانے کی مشروط منظوری دے ٹیکلی دی گئی ۔
پورے لاہور میں بسنت ہی پارکس بھی لاہور کا حصہ ہیں۔ دریں اثنا بسنت پر لاہوریوں کیلئے ایک کے بعد ایک موج ، فروری کے پہلے ہفتے شہری لانگ ویک اینڈ انجوائے کرینگے۔ ذرائع کے مطابق بسنت پر صوبائی دارالحکومت میں 4 چھٹیاں متوقع ہیں، جمعرات 5 فروری کو کشمیر ڈے کی چھٹی ہوگی ، ہفتہ اتوار کے ساتھ جمعہ کی چھٹی بھی زیر غور ہے۔
اس طرح جمعہ کی چھٹی سے لاہوریوں کو 4 چھٹیاں ایک ساتھ مل جائیں گی۔ حکام کے مطابق چھٹیوں کا مقصد بسنت کو یادگار اور محفوظ بنانا ہے، چھٹیوں کے باعث شہر میں ٹریفک کا بوجھ کم ہو گا ۔ علاوہ ازیں لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ دیکھنا ہے بسنت سے متعلق سکیورٹی کے کیا انتظامات کئے گئے ہیں؟ ۔
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ ایکٹ 2026 کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس اولیس خالد نے اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ عدالت کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ بادی النظر میں 25 سال بعد کائٹ فلائنگ کا تہوار منایا جا رہا ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر کے درخواست پر سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔