Wednesday, February 4, 2026
Google search engine

بدلتے عالمی نظام میں تزویراتی اور جغرافیائی خلا کا ظہور

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ عالمی سیاست اس وقت ایک ایسے عبوری دور سے گزر رہی ہے جہاں پرانی دنیا کے اصول ٹوٹ رہے ہیں اور نئے ضابطے ابھی پوری طرح تشکیل نہیں پاسکے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا تزویراتی اور جغرافیائی خلا پیدا ہو چکا ہے جو بیک وقت خطر ناک بھی ہے اور

امکانات سے بھر پور بھی۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد جس یک قطبی نظام نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا تھا، اب وہ اپنی طبعی عمر پوری کر کے زوال پذیر ہے، لیکن اس کی جگہ کوئی ایک واضح طاقت یا بلاک لینے سے قاصر ہے، اور یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے اس بحران اور خلا کا آغاز ہوتا ہے۔ اس خلا میں وہ خطے، ریاستیں اور شعبہ جات شامل ہیں جہاں اب طاقت کا توازن، صف بندیاں اور اصول غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اس نئی صف بندی میں ترقی پذیر اور درمیانی طاقت کے حامل ممالک، ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہیں جہاں انہیں عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ کی زیر قیادت مغرب، چین، اور کسی حد تک روس کے درمیان کھینچا تقسیم اور دوبارہ
جوڑا جا رہا ہے۔
سرد جنگ کے دور میں دنیا دو واضح اور نسبتا مربوط بلاکس میں تقسیم تھی، جس میں ایک طرف امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک تھا اور دوسری طرف سوویت یونین کی سر براہی میں مشرقی بلاک، اور ان دونوں کے درمیان دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک غیر جانبداری یا پر کسی صف بندی کا کھیل کھیلتے تھے، مگر اس وقت عالمی ڈھانچہ اور اصول واضح تھے۔ 1991 کے بعد جب سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تو دنیا ایک ایک قطبی دور میں داخل ہو گئی جہاں تقریباً دو دہائیوں تک امریکہ سلامتی معیشت اور عالمی اصولوں کے میدان میں بلا شرکت غیرے حکمران رہا۔ نیٹ ، ڈالر کی بالادستی ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور لبرل جمہوریت کے نعروں نے واشنگٹن کو عالمی کشش ثقل کا مرکز بنادیا تھا، جہاں اگر چہ تزویراتی خلا موجود تھے مگر طاقت کا منبع ایک ہی تھا۔


لیکن آج ہم جس دور میں سانس لے رہے ہیں، وہاں وہ یک قطبی لحہ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اگر چہ امریکی طاقت اب بھی غالب ہے مگر وہ نسبتا زوال کا شکار ہے، جبکہ چین معیشت، ٹیکنالوجی اور فوج کے میدان میں ایک منظم حریف کے طور پر اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے۔ دوسری جانب روس معاشی حدود کے باوجود یوکرین ، شام اور کریمیا میں اپنی فوجی طاقت کے ذریعے عالمی نظام میں خلل ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ بھارت، ترکیہ سعودی عرب، برازیل اور انڈونیشیا جیسی درمیانی طاقتیں اب زیادہ خود مختاری کی خواہاں ہیں۔
نتیجہ یہ ہے کہ نہ تو پرانا سرد جنگ کا نقشہ کارگر ہے اور نہ ہی امریکہ مرکزیت والا ماڈل، اور چونکہ ابھی کوئی نیا مستحکم نقشہ سامنے نہیں آیا، اس لیے ایک وسیع خلا پیدا ہو چکا ہے۔ اس خلا کی شدت میں اضافہ عالمی اداروں اور اخلاقی معیارات کے زوال نے کیا ہے۔ اقوام متحدہ ، ڈبلیو ٹی او اور مالیاتی ادارے یا تو بہت سست روی کا شکار ہیں یا پھر ان پر مغربی غلبہ اس قدر زیادہ ہے کہ وہ اب غیر موثر دکھائی دیتے ہیں۔ عراق، لیبیا، شام، غزہ اور یوکرین جیسے بحرانوں میں ان اداروں کی ناکامی نے عالمی قوانین کی ساکھ کو مجروح کیا ہے اور یہ تاثر عام ہو چکا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کا اطلاق محض پسند اور نا پسند کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اس سے پرانے نظام کی قانونی حیثیت کمزور پڑ گئی ہے مگر کوئی نیا اور قابلِ قبول فریم ورک موجود نہیں ، جس سے ایسے گرے زونز پیدا ہور ہے ہیں جہاں کسی بھی فریق کے پاس امن یا نظم و ضبط قائم کرنے کی مکمل صلاحیت یا جواز نہیں ہے۔ مزید برآں، معاشی اور تکنیکی میدان میں بھی تو ازن بدل رہا ہے۔ چین کا معاشی عروج ، روس کی توانائی کی سیاست اور خلیجی ممالک کے سرمائے نے مغرب کے معاشی کنٹرول کو چینج کر دیا ہے۔ پابندیوں کی جنگ، ڈی ڈالرائزیشن کی بحث اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہونے والی علیحدگی نے عالمی نظام کو مزید ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے۔
سرد جنگ کے دوران غیر جانبداری کا مطلب کسی بھی کیمپ میں مکمل شامل نہ ہونا تھا، مگر اب ریاستیں کثیر الجہتی صف بندی یا مٹی الائمنٹ کی پالیسی اپنا رہی ہیں۔ اسی طرح گلوبل ساؤتھ یا تیسری دنیا اب کوئی ایک نظریاتی بلاک نہیں رہا بلکہ یہ اندرونی طور پر تقسیم ہو چکا ہے۔ کچھ ممالک جیسے مشرقی یورپ اور بعض افریقی ریاستیں اب بھی مغربی امداد اور سکیورٹی کی محتاج ہیں، جبکہ پاکستان اور کئی افریقی ولاطینی امریکی ممالک چینی فنانس اور انفراسٹرکچر پر انحصار کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس بہت سی ریاستیں موقع پرستی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چین ،مغرب اور روس کے درمیان سودے بازی کر کے اپنے مفادات کا تحفظ کر رہی ہیں۔ اس لیے اب ایک مربوط  تیسری دنیا کے بجائے دوطرفہ انحصار کا ایک پیچیدہ موزیک موجود ہے۔ یہ بکھراؤ غیر رسمی بلاکس اور نیٹ ورکس کی صورت میں بھی نظر آتا ہے، جہاں ممالک بیک وقت امریکی اور روسی ہتھیاروں کے نظام، ڈالر اور یو آن کے مالیاتی نیٹ ورکس، اور مغربی و چینی ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں ، جس سے تزویراتی ابہام جنم لے رہا ہے۔
مشرق وسطی اور جنوبی ایشیا کے کئی حصے جہاں ایک بڑی عالمی جنگ کے بجائے طویل مدتی کم شدت والی جنگوں کا ایک جال بچھ رہا ہے۔ دوسرا بڑا خطرہ تزویراتی حد سے زیادہ انحصار اور قرضوں کے جال کا ہے۔ کمزور ریاستیں جب کسی ایک قرض دہندہ یا سکیورٹی فراہم کنندہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں تو وہ نا موافق شرائط ، سیاسی دباؤ اور خفیہ تزویراتی رعایتوں (جیسے اڈے یا بندرگا ہیں) دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ یہ در اصل نو آبادیاتی نظام کی ایک جدید شکل ہے جہاں مالیات اور انفراسٹرکچر کے ذریعے حلقہ اثر قائم کیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ بیرونی ماحول کا بکھراؤ داخلی دباؤ کو بھی بڑھاتا ہے۔ حکمران اشرافیہ کو مسابقتی بیانیوں اور سر پرستوں کے درمیان توازن رکھنا پڑتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا اور معلوماتی جنگ معاشرے میں پولرائزیشن اور حکومتوں کی کمزوری کا باعث بنتی ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اقدار کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ بڑی طاقتیں جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے اصولوں کو اپنے مخالفین کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کرتی ہیں لیکن اپنے اتحادیوں کے جرائم پر خاموش رہتی ہیں۔ دوسری اور تیسری دنیا کے عوام کو بدگمان کر دیا ہے اور کسی بھی اصولوں پر مبنی نظام کی اخلاقی حیثیت کو مجروح کیا ہے، جس کی وجہ سے کشمیر فلسطین اور روہنگیا جیسے مسائل کا اخلاقی بنیادوں پر حل تلاش کرنا ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ معاشی طور پر بھی سپلائی چیز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے حریف کیمپوں میں بٹ جانے سے ترقی پذیر ممالک کرنسی کے اتار چڑھاؤ ، خوراک اور توانائی کے عدم تحفظ اور قرضوں کے بحران کا شکار ہورہے ہیں۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہ خلاصرف خطرہ ہی نہیں بلکہ ایک موقع بھی ہے۔ اگر درمیانی اور کمزور ریاستیں دانشمندی کا مظاہرہ کریں تو وہ اس بے ترتیبی کو اپنے لیے تزویراتی جگہ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔ کثیر القطبی مقابلے کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی ایک طاقت اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔ ہوشیار ریاستیں طاقتوں کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر کے بہتر فنانسنگ ، ہتھیار اور سفارتی حمایت حاصل کر سکتی ہیں۔ وہ برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے فورمز کا استعمال کر کے اپنا سفارتی وزن بڑھا سکتی ہیں۔ عالمی سطح پر موجود خلا علاقائی سطح پر بھی جگہ پیدا کرتا ہے۔ درمیانی طاقتیں منی لیٹرل انتظامات کے ذریعے چھوٹے اور مسائل پر مرکوز اتحاد بنا سکتی ہیں۔ وہ بڑی طاقتوں کا انتظار کرنے کے بجائے تنازعات کے حل، تجارت اور موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل پر خود قیادت کر سکتی ہیں۔ خلیج، آسیان اور افریقہ میں کامیاب علاقائیت اس خلا کو جزوی طور پر پر کر سکتی ہے۔
شراکت داروں میں تنوع پیدا کر کے ریاستیں اپنی لچک میں ضافہ کر سکتی ہیں۔ اگر تجارت سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے لیے کسی ایک بلاک پر انحصار نہ کیا جائے تو کسی ایک بیرونی جھٹکے یا پابندی سے ملک مفلوج نہیں ہوگا۔ اب ہائبرڈ گورنس ماڈلز اور جنوب۔ جنوب تعاون کی گنجائش موجود ہے جو مغرب مخالف تو نہ ہو لیکن لہجے میں پوسٹ ویسٹرن ، اور جو ترقی اور جدیدیت کی تعریف کو مغربی سانچوں سے الگ کر کے پیش کر سکے ۔ لیکن یہ خلا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ دوسری اور تیسری دنیا اس سے فائدہ اٹھائے گی یا نقصان، اس کا انحصار ان کی داخلی ریاستی صلاحیت پر ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine