Monday, February 2, 2026
Google search engine

پی ٹی آئی نے انتشار پھیلایا تو زیادہ سخت کارروائی ہوگی: وفاقی وزراء

اسلام آباد (تصور نیوز) وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے انتشار پھیلا یا تو 26 نومبر سے بھی نا زیادہ سخت کاروائی ہوگی۔

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی صحت اور تعلیم جسے سنگین مسائل موجود ہیں مگر صوبائی قیادت اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برت رہی ہے۔

ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا 26 نومبر ، 9 مئی ، اس کے بعد آئی ایم ایف کو خط لکھنا، پھر مسلسل پاکستان کو غیر مستحکم کرنے والا بیانیہ، چاہے وہ انڈیا کا ہو یا اسرائیل کا ، یا الفاظ کے فرق کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کے ایکس ( سابقہ ٹوئیٹر اکاؤنٹ سے ہو، یہ سب انتہائی نامناسب اور دل دکھانے والی باتیں ہیں۔

انہوں نے والی کہا کہ ایک سیاسی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا، اس سب کے باوجود ہم تحمل سے کام لے رہے ہیں، سابق وزیر اعظم مسلسل اپنے ٹوئٹر سے ایسے موقف کا اظہار کرتے ہیں جو الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ پاکستان مخالف بیانیے جیسا ہوتا ہے، جو انڈیا اور اسرائیل سے ملتا جلتا ہے۔

 وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ جتنی سہولتیں عمران خان کو دی گئی ہیں، پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کسی قیدی کو ملی ہوں ، ان سے جو بھی ملتا ہے، وہ کہتا ہے کہ وہ ہٹے کٹے ہیں، ورزش کر رہے ہیں، اچھا کھانا کھا رہے ہیں، ڈاکٹر 24 گھنٹے موجود ہے ، خدمت گار دن رات ساتھ ہے۔

 اس سوال پر کہ کیا کیا کسی صوبے کے وزیر اعلی کو اعتماد میں لیے بغیر فوجی آپریشن شروع کیا جا سکتا ہے؟ کے جواب میں وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ جو کارروائی جاری ہے وہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریبا 14 لاکھ افغان باشندے مختلف مراحل میں واپس افغانستان بھیجے جاچکے ہیں جبکہ 15 لاکھ اب بھی پاکستان میں موجود ہیں ۔ مزید برآں قومی اسمبلی کے اجلاس وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے عملہ اور سینٹرز کی تعداد میں اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں، وٹس ایپ ہیکنگ اور جعلی و فراڈ کالز کے حوالہ سے آگاہی فراہم کی جارہی ہے، فائر وال کا مقصد اظہار رائے کی آزادی کو روکنا نہیں۔

دوسری جانب وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ کہ حکومت مستحکم ہے، کسی قسم کا کوئی تھریٹ نہیں، ہمیں آپس میں صلح کرنی چاہیے، جو صلح کرنے سے انکاری ہے قصور اس کا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ہم نہیں کہتے ہمیں گالیاں نہ دیں لیکن اداروں کو تو گالیاں نہ دیں، نواز شریف، آصف زرداری کے پاس اپنی جماعت کا اختیار ہے، کسی اور کا نہیں، پی ٹی آئی کو سنجانی جانے کا کہا گیا تھا لیکن اس پر انہوں نے عمل نہیں کیا۔

 رانا ثنا اللہ نے کہا کہ امریکی وفد آیا تھا وہ مایوس ہو کر گیا ہے، تالی دونوں ہاتھ سے بجے گی، ایک ہاتھ سے نہیں ، وزیر اعظم نے اپوزیشن کی سیٹوں پر جا کر دعوت دی، وزیر اعظم نے خلوص نیت سے بات کی ۔ پی ٹی آئی پہیہ جام ہڑتال کرنے کی پوزیشن میں نہیں تحریک انصاف پشاور میں بھی پہیہ جام نہیں کر سکتی۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine