Monday, February 2, 2026
Google search engine

خود کشی اسلام میں حرام ہے

آج کے دور میں نو جوانوں میں خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنجیدہ اور تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ یہ مسئلہ صرف کسی ایک فرد کی زندگی کے خاتمے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات خاندان ، معاشرے اور پوری قوم پر مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر پاکستان جیسے مذہبی اور سماجی اقدار رکھنے والے معاشرے میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ آخر نو جوان اس حد تک کیوں پہنچ رہے ہیں جہاں انہیں زندگی سے فرار خود کشی کی صورت میں نظرآتا ہے۔


نوجوانی کا دور عام طور پر خواب دیکھنے ، آگے بڑھنے اور زندگی کو بہتر بنانے کا زمانہ ہوتا ہے۔ مگر موجودہ حالات میں یہی نوجوان شدید ذہنی دباؤ، مایوسی اور تنہائی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ بے روزگاری، معاشی مسائل، خاندانی تنازعات سوشل میڈیا کامنفی اثر اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال نوجوان ذہن کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ جب ایک نوجوان بار بار ناکامیوں کا سامنا کرتا ہے اور اسے سننے والا کوئی نہ ہوتو وہ خود کو بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ یہی احساس آہستہ آہستہ اسے اس خطر ناک سوچ کی طرف لے جاتا ہے کہ شاید زندگی ختم کر دینا ہی مسائل کا حل ہے۔ ایک بڑی وجہ والدین اور اولاد کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلے ہیں۔ اکثر والدین اپنی مصروف زندگی میں بچوں کی بات سننے اور ان کے مسائل سمجھنے کا وقت نہیں نکال پاتے ۔ نوجوان اپنی باتیں دوستوں یا سوشل میڈیا پر تو بیان کر لیتے ہیں مگر گھر میں خاموش رہتے ہیں۔ جب دل کے اندر جمع ہونے والا دکھ کسی سے بیان نہ ہو تو وہ ذہنی بیماری کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ڈپریشن، انزائٹی اور احساس کمتری ایسے مسائل ہیں جنہیں ہمارے معاشرے میں آج بھی کمزوری سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ حقیقی اور سنگین مسائل ہیں۔ سوشل میڈیا نے بھی اس رجحان کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنے لگتے ہیں۔ کسی کی کامیابی کسی کی خوشی اور کسی کی آسائشیں دیکھ کر وہ خود کونا کام سمجھنے لگتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی زندگی اکثر بناوٹی ہوتی ہے مگر نو جوان اسے اصل سمجھ کر خود کو کمتر محسوس کرتا ہے۔


اسلام میں انسان اپنی زندگی کا مالک نہیں بلکہ امانت دار ہے۔ قرآن پاک میں واضح طور پر فرمایا گیا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاک نہ کرو، بے شک اللہ تم پر مہربان ہے۔ یہ آیت اس بات کا واضح پیغام ہے کہ خودکشی حرام ہے اور اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا بھی گناہ کبیرہ ہے۔ نبی کریم سال ہی تم نے خود کشی کے بارے میں سخت وعید بیان فرمائی ہے۔
احادیث میں آتا ہے کہ جو شخص جس طریقے سے خود کشی کرتا ہے، قیامت کے دن اسے اس عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ یہ تعلیمات ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ اسلام میں مشکلات سے بھاگنے کے بجائے صبر، دعا اور اللہ پر توکل کا راستہ ختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اسلام انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے اور اللہ کسی جان پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ پاکستان کے قانون کے مطابق بھی خود کشی ایک جرم ہے۔ پاکستان پینل کوڈ کے تحت خود کشی کی کوشش کرنا قابل سزا جرم سمجھا جاتارہا ہے۔ اگر چہ حالیہ برسوں میں اس قانون پر نظر ثانی کی بات کی جارہی ہے اور ذہنی بیماری کو ایک اہم وجہ کے طور پر تسلیم کیا جارہاہے،مگر مجموعی طور پر قانون یہی پیغام دیتا ہے کہ خودکشی قابل قبول عمل نہیں ہے۔ قانون کا مقصد سزادینا نہیں بلکہ ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنا ہے تا کہ انسانی جان کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔


پاکستان میں مسئلہ یہ بھی ہے کہ ذہنی صحت کے حوالے سے سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اگر کوئی نوجوان ذہنی دباؤ کا شکار ہو تو اسے یا تو نظر انداز کر دیا جاتا ہے یا اسے کمزور قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس رویے کی وجہ سے نوجوان اپنے مسئلے کو چھپاتے ہیں اور تنہائی میں اس کا حل تلاش کرنے لگتے ہیں جو اکثر خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ معاشرتی سطح پر خود کشی کے نقصانات بہت گہرے ہوتے ہیں۔ ایک خود کشی پورے خاندان کو زندگی بھر کا صدمہ دے جاتی ہے۔ والدین خود کو قصور وار سمجھتے ہیں، بہن بھائی احساس جرم میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور معاشرہ سوالات اٹھاتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ خود کشی معاشرے میں مایوسی اور نا امیدی کو بھی فروغ دیتی ہے۔ جب نوجوان دیکھتے ہیں کہ مشکلات کا حل خود کشی کو سمجھا جا رہا ہے تو یہ سوچ آہستہ آہستہ پھیلنے لگتی ہے۔
خود کشی کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم بطور معاشرہ اپنے نو جوانوں کو سننے میں ناکام ہورہے ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر خاموش نو جوان مطمئن نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سب سے زیادہ مسکرا تا ہوا چہرہ اندر سے سب سے زیادہ ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گھروں میں بات چیت کا ماحول پیدا کیا جائے تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کو سنجیدگی سے لیا جائے اور میڈیا پر بھی ذمہ دارانہ رویہ اپنایا جائے۔ اسلام ہمیں امید کا درس دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت سے بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اگر زندگی میں مشکلات ہیں تو وہ آزمائش ہیں سزا نہیں۔ ہر رات کے بعد صبح آتی ہے اور ہر اندھیرے کے بعد روشنی۔ نوجوانوں کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ ان کی زندگی قیمتی ہے اور ان کے مسائل کا حل موجود ہے۔ خودکشی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کی ابتدا ہے۔ آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ خود کشی کا مسئلہ صرف قانون یا مذہب سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے اجتماعی شعور، ہمدردی اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ اگر ہم آج ان کا ہاتھ تھام لیں تو کل بہت سی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔

مفتی راغب حسین نعیمی
خود کشی والا عمل شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے

مفتی ڈاکٹر راغب حسین نعیمی چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے معروف عالم دین نے خود کشی یا اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والے عمل کے بارے میں واضح شرعی موقف دیا ہے۔ جامعہ نعیمیہ نے فتویٰ جاری کیا ہے جس میں مفتی راغب حسین نعیمی اور مفتی عمران حنفی نے کہا کہ انسان کا خود کو ہلاکت میں ڈالنا، یعنی خود کشی یا جان کو خطرے میں ڈالنے والا عمل شرعاً ہرگز جائز نہیں ہے۔ اس فتویٰ میں کہا گیا کہ شریعت محمدی سال یا پین میں خودکشی اور ایسے تمام عمل جو کسی انسان کو موت یا شدید نقصان کی طرف لے جائیں حرام ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کا اپنی جان لینے کی کوشش یا ایسی حالت میں جان کو خطرہ میں ڈالنا چاہے کسی بھی وجہ سے ہو اسلام میں ممنوع ہے۔

ڈاکٹر طاہر القادری
خودکشی اسلام میں حرام قطعی ہے

علامہ ڈاکٹرطاہر القادری کا خودکشی کے بارے میں موقف واضح سخت اور فقہی بنیادوں پر قائم ہے۔ وہ خود کشی کو ایک سماجی یا نفسیاتی مسئلہ نہیں بلکہ صریحاً شرعی اور دینی جرم قرار دیتے ہیں ۔ ان کا موقف درج ذیل نکات میں سمجھا جا سکتا ہے۔ علامہ طاہر القادری کے مطابق خود کشی اسلام میں حرام قطعی ہے۔ وہ قرآن وحدیث کی روشنی میں یہ بات واضح کرتے ہیں کہ انسان کی جان اللہ کی امانت ہے اور کسی انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی جان خود لے۔ ان کے نزدیک خود کشی اللہ کی تقدیر سے بغاوت اور اس کے فیصلے پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ وہ حدیث نبوی سلیم کا حوالہ دیتے ہیں کہ جو شخص جس طریقے سے خود کشی کرتا ہے قیامت کے دن اسی طریقے سے عذاب میں مبتلا ہوگا ۔ علامہ قادری کے مطابق یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ خود کشی سنگین گناہ کبیرہ ہے۔ علامہ قادری یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص شدید ذہنی بیماری، پاگل پن یا مکمل شعوری عدم توازن کی حالت میں خودکشی کرے تو شریعت میں اس کی ذمہ داری مختلف ہو سکتی ہے کیونکہ اسلام میں عقل اور شعور کو تکلیف کا معیار مانا گیا ہے۔ لیکن وہ اس نکتے پر زور دیتے ہیں کہ عام حالات میں خود کشی کو ذہنی دباؤ کے نام پر جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان کے نزد یک خودکشی کا رجحان در اصل ایمان کی کمزوری صبر کی کمی اللہ پر توکل کے فقدان اور معاشرتی نا انصافیوں کا نتیجہ ہے۔

مولانا طارق جمیل
خدا کے لیے خود کشی نہ کریں

مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ خدا کے لیے خود کشی نہ کریں۔ یہ جملہ صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک ایسی پکار ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں، تھکے ہوئے ذہنوں اور مایوسی کے اندھیروں میں گھری روحوں تک پہنچتی ہے۔ خودکشی بظاہر مسائل سے فرار کا راستہ دکھائی دیتی ہے مگر حقیقت میں یہ مسائل کا خاتمہ نہیں بلکہ زندگی کے دروازے بند کرنے کا نام ہے۔ مولانا طارق جمیل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جس رب نے زندگی دی ہے وہی اس کے دکھوں کا مداوا بھی رکھتا ہے ، بس انسان کو ہمت کے ساتھ ایک قدم اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ بندے کی آزمائش اس کی طاقت سے بڑھ کر نہیں رکھتا ، یہ یقین دل میں اتر جائے تو بوجھ ہلکا ہونے لگتا ہے۔ مولانا کہتے ہیں کہ مایوسی شیطان کا ہتھیار ہے اور امید اللہ کا تحفہ۔ خودکشی نہ صرف ایک جان کا خاتمہ ہے بلکہ پیچھے رہ جانے والوں کے لیے عمر بھر کا دکھ چھوڑ جاتی ہے۔

جاوید احمد غامدی
خودکشی کو درست یا جائز قرار نہیں دیا جاسکتا

جاوید احمد غامدی کے نزدیک خودکشی کا مسئلہ صرف ایک فقہی حکم کا نہیں بلکہ انسانی زندگی کی حرمت، اللہ پر ایمان اور اخلاقی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ زندگی انسان کی ملکیت نہیں بلکہ اللہ کی عطا ہے اس لیے انسان کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے اس نعمت کو ختم کر دے۔ قرآن کا مجموعی پیغام زندگی کے احترام صبر شکر اور آزمائشوں میں ثابت قدمی پر قائم ہے، جو اس بات کو صاف کردیتا ہے کہ اپنی جان لینا درست عمل نہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک خود کشی در اصل مایوسی، ناامیدی اور اللہ کی رحمت سے بدگمانی کا اظہار ہے جبکہ اسلام انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں اللہ کی طرف رجوع اور امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شدید ذہنی دباؤ، بیماری یا مجبوری کے حالات میں اگر کوئی شخص اس حد تک ٹوٹ جائے تو اس کے انجام کا فیصلہ انسانوں کے بجائے اللہ کے ہاتھ میں ہے، کیونکہ اللہ ہی دلوں کے حال اور انسان کی اصل کیفیت کو جانتا ہے، تاہم اس کے باوجود شریعت کی سطح پر خودکشی کو درست یا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

علامہ ڈاکٹر حسین اکبر
قطعی طور پر حرام اور کبیرہ گناہ ہے

خودکشی اسلام میں قطعی طور پر حرام اور کبیرہ گناہ ہے۔ ان کے نزدیک انسانی حسان اللہ کی امانت ہے اور انسان کو اس پر مکمل اختیار حاصل نہیں۔ وہ واضح کرتے ہیں کہ چاہے حالات کتنے ہی کٹھن کیوں نہ ہوں ، عربت ہو، بیماری ہو یا ذ ہنی اذیت، خود کشی کسی مسئلے کا حل یا احتجاج کا ذریعہ نہیں بن سکتی ۔ فقہ جعفریہ کی روشنی میں وہ اس عمل کو اللہ کی رحمت سے ناامیدی کی انتہا قرار دیتے ہیں، جو بذات خود ایک سنگین گناہ ہے۔ ان کے مطابق خود کشی صرف فرد کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اخلاقی اور سماجی نا کامی کی علامت ہوتی ہے۔

مولانا الیاس گھمن

خود کشی شریعت میں سخت حرام ہے

خودکشی ایک سنگین سماجی مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ یہ پورے خاندان کو متاثر کرتا ہے۔ یہ معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ بن جاتا ہے۔ موجودہ دور میں اس کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔ یہ اضافہ ہمارے اجتماعی رویوں پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسلام انسانی جان کو بے حد محترم قرار دیتا ہے۔ جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔ انسان کو اس پر مطلق اختیار حاصل نہیں ۔ اسی لیے خود کشی شریعت میں سخت حرام ہے۔ یہ عمل نا امیدی اور مایوسی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن کریم ناامیدی سے منع کرتا ہے۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine