لاہور ( نیوز رپورٹر ) پنجاب کے متنازعہ بلدیاتی قانون کیخلاف جماعت اسلامی کے زیر اہتمام چار روزہ عوامی ریفرنڈم کا آغاز ہو چکا ہے۔
ریفرنڈم کے دوسرے روز صوبے بھر میں مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا اور موجودہ بلدیاتی ایکٹ کو یکسر مسترد کر دیا۔ عوامی جوش و خروش اور بھر پور شرکت اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پنجاب کے عوام اس قانون کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔
ریفرنڈم کے موقع پر نماز جمعہ کے بعد مساجد کے باہر بھی پولنگ بوتھ قائم کئے گئے، جہاں نمازیوں نے بڑی تعداد میں رائے دہی میں حصہ لیا۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 1400 سے زائد پولنگ کیمپ قائم کئے گئے ہیں جبکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی ہزاروں کی تعداد میں کیمپ فعال ہیں۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی پنجاب محمد جاوید قصوری نے وسطی پنجاب کے مختلف شہروں کا دورہ کیا اور ریفرنڈم کے انعقاد کا جائزہ لیا۔ مختلف مقامات پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو عوامی مطالبات تسلیم کرنا ہوں گے، اس کے سوا حکمرانوں کے پاس کوئی آپشن نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بلدیاتی ایکٹ متنازعہ، عوام دشمن اور غیر جمہوری ہے۔ جاوید قصوری نے کہا کہ پنجاب کے 12 کروڑ عوام اس کالے قانون کو مستر د کر چکے ہیں ، جماعت اسلامی با اختیار بلدیاتی نظام کے قیام تک اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔ عوامی ریفرنڈم کے دوسرے روز کی بھر پور شرکت نے ثابت کر دیا ہے کہ پنجاب کے عوام اپنے بنیادی جمہوری حق سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں اور یہ عوامی تحریک فیصلہ کن مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔