Wednesday, February 4, 2026
Google search engine

رشتہ داروں کے نہ پہنچنے پر دس سالہ بچہ ماں کا پوسٹ مارٹم کرانے تنہا پہنچ گیا

اتر پردیش: (ویب ڈیسک) 10سالہ بچہ کسی رشتے دار کے نہ آنے پر ماں کا تنہا پوسٹ مارٹم کرانے پہنچ گیا

اتر پردیش کے ضلع ایٹہ میں ایک دل سوز واقعہ پیش آیا ہے، یہ المناک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بچے کی 52 سالہ والدہ ٹی بی اور ایچ آئی وی کے علاج کے دوران ہسپتال میں چل بسی۔

خاتون کے انتقال کے بعد نہ کوئی رشتہ دار اور نہ ہی پڑوسی مدد کیلئے سامنے آیا، جس کے باعث آنسوؤں سے بھری آنکھوں والا بچہ صرف طبی عملے کے ساتھ لاش کا پوسٹ مارٹم کروانے پہنچا۔

ہسپتال میں فرش پر ماں کی لاش کے پاس بیٹھے بچے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔ رپورٹس کے مطابق بچہ کئی گھنٹوں تک ماں کی لاش کے پاس بیٹھا رہا، یہاں تک کہ واقعے کی اطلاع ملنے پر مقامی پولیس ہسپتال پہنچی گئی۔

 پولیس نے نہ صرف پوسٹ مارٹم کا انتظام کیا بلکہ خاتون کی آخری رسومات ادا کرنے میں بھی مدد کی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خاتون کو ضلع کے مقامی ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ بچے کے والد گزشتہ برس ایچ آئی وی کے باعث انتقال کر چکے تھے۔

10 سالہ بچے نے بتایا کہ والد میں ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد معاشرے  نے ان کے خاندان سے تعلق ختم کر لیا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ پہلے سکول جاتا تھا، لیکن والد کی موت اور ماں کی بیماری کے بعد تعلیم چھوڑ کر ماں کی دیکھ بھال کرنے لگا۔

بچے نے  کہ میں اپنی والدہ کا خیال رکھتا تھا۔ ان کا علاج ایٹہ میں ہوا اور انہیں کانپور اور فرخ آباد کے اسپتال بھی لے جایا گیا۔ میرے چچا کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے۔

ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ خاتون کا 2017 میں ٹی بی کا علاج کیا گیا تھا اور انہیں ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی گئی۔

پولیس کے اعلیٰ حکام اور ایس ایچ او کا کہنا ہے کہ ہمیں اطلاع ملی کہ ایک بچہ لاش کے ساتھ اکیلا موجود ہے۔ میں نے فوری طور پر سب انسپکٹر اور کانسٹیبل کو موقع پر بھیجا، بچے کا کوئی سہارا نہیں تھا، اس لیے ہم نے آخری رسومات کا انتظام کیا۔

میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے نے الزام عائد کیا ہے کہ اس کے رشتہ دار اس کی زمین ہڑپ کرنا چاہتے ہیں اور اسی لیے اسے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

بچے کا کہنا ہے کہ رشتہ دار اس کی ماں کی بیماری سے آگاہ تھے، مگر اس کے باوجود خاندان کی جانب سے کسی قسم کی مدد نہیں کی گئی۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine