اسلام آباد (تصور نیوز) خیبر پختونخوا میں سپر ٹیکس کیخلاف دالئر کردہ درخواست سماعت کیلئے منظور کر لی گئی۔
خیبر پی کے کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹنس ایکٹ 2019 کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران خیبر پی کے حکومت کی جانب سے آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔
جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس کریم خان آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ صوبائی حکومت کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی حکومت کی قانون سازی کے خلاف براہ راست معاملہ آئینی عدالت نہیں سن سکتی اور اس نوعیت کے معاملات کے لیے مجاز فورم ہائی کورٹ بنتا ہے۔
اینٹی نارکوٹکس فورس کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ دو اسمبلیوں کا نہیں بلکہ دو حکومتوں کے درمیان تنازع ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 21 جنوری تک ملتوی کر دی۔ حکومت نے کے پی کے نارکوٹکس ایکٹ 2019 کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کر رکھی ہے۔
عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیس کی سماعت آج پھر ہوگی۔ چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔دورانِ سماعت مختلف کمپنیوں کے وکیل فروغ نسیم نے دلائل دیتے ہوئے مو قف اختیار کیا کہ ایف بی آر اپنے ہی بنائے ہوئے قواعد و ضوابط کا من چاہے انداز میں اطلاق کر رہا ہے اور قوانین کی خود ساختہ تشریح کرتا ہے۔
عدالت میں پی بی 21 میں دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کے سپریم کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر سوالات اٹھادیے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 22 جنوری تک ملتوی کر دی۔
وفاقی آئینی عدالت میں پی بی 21 میں دوبارہ گنتی سے متعلق صالح بھوتانی کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیئے۔