Wednesday, February 4, 2026
Google search engine

کیا امریکی صدر انتخابی مہم میں عوام سے کئے گئے وعدے بھول گئے؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخابی مہم کے دوران امریکی عوام سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امن کے علمبردار بنیں گے۔ چند ماہ پہلے انہوں نے اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آٹھ جنگیں رکوائی ہیں لہٰذا وہ امن نوبل انعام کے حقدار ہیں۔ ان دعوؤں کے برعکس انہوں نے وینزویلا میں کھلی جارحیت کر کے امن عالم کے لیے ایک نیا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کا اغوا

 صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو اغوا کر کے ایک ایسی مکروہ روایت قائم کر دی ہے جس کی آنے والی نسلیں مثالیں دیا کریں گی۔ مادورو پر منشیات اور اسلحہ کی سمگلنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں انہوں نے عدالت میں پیشی کے دوران ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ امریکہ نے اپنے آخری اقدام سے پہلے وینزویلا پر معاشی پابندیاں عائد کیں،

 اس کی کئی کشتیوں کو نشانہ بنایا جن میں مبینہ طور پر منشیات سمگل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ وینزویلا کے آئل ٹینکروں کو روکا گیا۔ ان واقعات میں وینزویلا کے 100شہری جان بحق ہو گئے۔ اس روایت سے پوری دنیا میں یہ پیغام پہنچا ہے کہ اصول اخلاق عالمی قوانین کچھ حیثیت نہیں رکھتے اور طاقت سے سب کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ کی وینزویلا میں جارحیت

اس جارحانہ المناک واقعہ سے ان ملکوں کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو توسیع پسندانہ عزائم رکھتے ہیں۔ ٹرمپ نے وینزویلا میں جارحیت کرنے کے بعد کیوبا کولمبیا اور میکسیکو کو بھی کھلی دھمکی دی ہے ۔ ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کا بھی اشارہ دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ گرین لینڈ کا قبضہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

امریکہ نے ایک بار پھر ایران کو بھی دھمکی دے ڈالی ہے کہ امریکہ ایک بار پھر ایران پر حملہ کر سکتا ہے ۔ اسرائیل نے غزہ میں جو خون کی ہولی کھیلی صدر ٹرمپ نے اس کی نہ صرف سرپرستی کی بلکہ ہر قسم کی مالی اور عسکری امداد بھی دی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں یہ کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کینیڈا امریکہ کی 51 ویں ریاست بن جائے۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ نے دنیا کو مختلف خطوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ وہ اب عالمی سپر پاور بننے کی بجائے دنیا کے ایک مخصوص علاقے پر اپنی برتری چاہتا ہے اور روس چین اور مغربی ممالک کو اپنے اپنے علاقوں میں برتری کے لیے مواقع دینے پر رضامند ہے۔ امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تاریخ طاقت مفادات اور نظریات کے امتزاج سے عبارت ہے۔

صدر ٹرمپ کی مداخلت

دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے خود کو ورلڈ آرڈر کا محافظ سمجھتے ہوئے دنیا کے مختلف خطوں میں براہِ راست اور بالواسطہ مداخلتیں کیں۔ ان مداخلتوں کے پس منظر میں کبھی کمیونزم کا خوف تھا کبھی توانائی وسائل کا تحفظ اور کبھی جمہوریت و انسانی حقوق کے نعروں کی آڑ میں اسٹریٹجک مفادات۔1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں لاطینی امریکہ اور ایشیا امریکی مداخلتوں کے بڑے میدان رہے۔

 ایران (1953ء) اور گواٹے مالا (1954ء) میں منتخب حکومتوں کا تختہ الٹنا ویتنام میں طویل جنگ اور بعد ازاں چلی، نکاراگوا اور ایل سلواڈور جیسے ممالک میں سیاسی انجینئرنگ۔ یہ سب اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ دنیا کو واشنگٹن کی عینک سے دیکھنا ضروری ہے۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی یہ روش تبدیل نہ ہو سکی۔ عراق اور افغانستان میں فوجی مداخلت، لیبیا میں نیٹو کارروائی اور شام میں بالواسطہ کردار۔ یہ سب نیو ورلڈ آرڈر کی تشکیل کے دعوؤں کے ساتھ جڑے رہے مگر ان کے نتائج عدم استحکام اور طویل بحران کی صورت میں سامنے آئے۔اسی تناظر میں وینزویلا کا معاملہ سمجھنا ضروری ہے۔ تیل کے وسیع ذخائر رکھنے والا یہ ملک گزشتہ برسوں میں شدید سیاسی و معاشی بحران کا شکار رہا۔

امریکہ نے ایک طرف وینزویلا کی حکومت پر سخت معاشی پابندیاں عائد کیں اور دوسری طرف سیاسی دباؤ سفارتی محاذ آرائی اور اندرونی سیاسی قوتوں کی حمایت کے ذریعے نظامِ حکومت پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی۔ اس مداخلت کو امریکہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے نام پر درست قرار دیتا ہے مگر ناقدین کے نزدیک اصل محرک توانائی منرل وسائل علاقائی اثرورسوخ اور چین و روس کے بڑھتے کردار کو محدود کرنا ہے۔

وینزویلا میں حالیہ امریکی مداخلت

وینزویلا میں حالیہ امریکی مداخلت کے عالمی اثرات دور رس ہیں۔ اول اس نے عالمی سیاست میں طاقت کے نئے توازن کو نمایاں کیا۔ روس اور چین نے وینزویلا کے معاملے میں امریکہ کے یکطرفہ رویے کی کھل کر مخالفت کی جس سے عالمی نظام میں کثیر القطبی رجحان مضبوط ہوا۔ دوم معاشی پابندیوں نے بین الاقوامی قانون اور انسانی ہمدردی کے اصولوں پر سوالات اٹھائے کیونکہ ان کا براہِ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔

سوم لاطینی امریکہ میں امریکہ مخالف جذبات کو نئی توانائی ملی اور کئی ممالک نے خودمختاری کے دفاع کو اپنی خارجہ پالیسی کا مرکزی نکتہ بنا لیا۔یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکی مداخلتیں اکثر فوری سیاسی اہداف تو حاصل کر لیتی ہیں مگر طویل المدت استحکام فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہیں۔ وینزویلا کی مثال اس امر کی یاد دہانی ہے کہ داخلی مسائل کا حل بیرونی دباؤ سے نہیں بلکہ مقامی سیاسی مفاہمت شفاف اداروں اور عالمی برادری کے غیرجانبدار کردار سے نکلتا ہے۔ امریکہ نے کھلی جارحیت کرکے وینزویلا سے اپنے مطالبات تسلیم کرا لیے ہیں۔

مقالات ذات صلة

ترك الرد

من فضلك ادخل تعليقك
من فضلك ادخل اسمك هنا

- Advertisment -
Google search engine